اجتہاد

Upcoming Publication

Author: Zafar Ullah Khan

 

Description

IRD’s new publication “Ijtihad: Islami Fikr kee Asree Tashkeel” (اجتہاد: اسلامی فکر کی عصری تشکیل) is just published and will be available for distribution in the coming week. Authored by Pakistan’s leading scholar, researcher, public intellectual and reformist thinker, Barrister Zafar Ullah Khan, the book consists of a critical journey and inquiry through the Muslims’ glorious past, unfortunate phases of decadence, and his earnest dream of an era opening Muslim mind to fresh thinking, innovation, and intellectual development. The following preface written by Barrister Zafar Ullah Khan provides an outline of this magnum opus.

نغمہ حیات

            اسلام، انسانیت کے لیے فرداً فرداً اور ان کی اجتماعی زندگی کی تشکیل کے لیے بھی خدا کی طرف سے آخری ہدایت ہے۔ اس کے امن و سلامتی اور خوشحالی کے پیغام نے 1400 سال سے زائد عرصہ پہلے ایک پاکیزہ اور پُر جمال و پُر جلال امّت کی تشکیل کی۔ مسلمانوں نے ایک شاندار اور بے مثل تہذیب کی تخلیق کی جس نے انسان کی زندگی، اس کے علم اور اس کے ارتقا کی سرحدوں کو دُور دُور تک پھیلا دیا۔ یہ امّت تقریباً ایک ہزار برس تک بنی نوعِ انسان کے لیے روشنی کا مینار بنی رہی۔ دنیا اس عظیم الشان تہذیب و تمدن، اس کی وسعت پذیر ذہنی استعداد اور قوتِ عمل کو نگاہِ حیرت سے دیکھتی رہی مگر یہ سلسلہ اس شان وتمکنت کے ساتھ جاری نہ رہ سکا۔

            پھر مسلم تہذیب لڑکھڑانے لگی اور مسلمان سو گئے۔ اس گہری نیند کے دوران وہ اپنے شاندار ماضی کی یادوں میں کھوئے رہے اور چیختے رہے۔ ’پدرم سلطان بود‘ (ہمارا باپ بادشاہ تھا)۔ اس دعوے نے مسلمانوں کی موجودہ حالت پر کوئی اثر نہیں ڈالا، نہ پہلے اس سے کوئی فائدہ ہوا اور نہ اب ہو سکتا ہے۔ عظمتِ رفتہ حالیہ افزائش و ترقی کی ضرورتوں کو نہیں جھٹلاتی۔ مسلمانوں کو سنجیدگی کے ساتھ دروں بینی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں تازہ افکار پیدا کرنے ہوں گے تا کہ جہانِ نو کو وجود میں لا سکیں۔ یہ ان کی بقا اور زندہ درگور کر دینے والے تعطل سے بچنے کے لیے بے حد ضروری ہے۔ آپ اس کتاب میں ایسی نئی دنیا کے بارے میں میرا خواب پائیں گے۔

            میں نے اسلام کی تعلیم بہت کم عمری میں، ملتان کے ایک دُور افتادہ گاؤں کے ایک مدرسے میں حاصل کرنا شروع کی جو آج تک جاری ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر اسلام کی خوبصورت سچائیاں واضح ہوتی چلی گئیں۔ اس سے میں اس امر کا قائل ہو گیا ہوںکہ اسلام کی موجودہ قدامت پسندانہ تعبیر بعض اوقات نہ صرف وقت کے پیچھے (anachronistic) ہے بلکہ دشمنِ ترقی اور دشمنِ انسانیت بھی ہے۔ اسلام، جو بنی نوعِ انسان پر اللہ تعالیٰ کی سراسر شفقت و رحمت ہے، غلط تعبیر کرنے والوں کے ہاتھوں استحصال اور غربت و افلاس پھیلانے حتیٰ کہ دہشت گردانہ اقدامات کی وجہ سے قتلِ انسان کا بھی ایک ذریعہ بن چکا ہے۔ مسلمان ماضی میں پھنس کر رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایک صحیح جدید اسلامی زندگی وجود میں لانے میں نا کام ہو چکے ہیں۔ اگر پیروکارانِ اسلام اپنے مذہب کو صحیح طور پر سمجھتے اور اس پر عمل کرتے تو یہ انہیں شاندار ترقیوں سے ہمکنار کر دیتا۔ حقیقی ’اجتہاد‘ نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان امن و خوشحالی کی زندگی کے حصول سے محروم ہو چکے ہیں، جس کی بنا پر وہ اپنی پوری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع کھو بیٹھے ہیں۔

            ’یہ کتاب‘ لکھنے کی بنیاد ایک لیکچر بنا جو میں نے 2003ء میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں علماء کے سامنے دیا تھا۔ اس لیکچر کو شرح و بسط کے ساتھ پہلے اردو بعنوان’’ کسی اور زمانے کا خواب‘‘ (2004ء) میں شائع کیا گیا۔ اس موضوع پر میں 40 برس تک اسلام کا مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ یہ مسئلہ اب تک میری روز و شب کی سوچ بچار کا مرکز و محور بنا چلا آ رہا ہے۔ پھر 2008ء میں انگریزی میں اس کا ترجمہ (The Way Out) شائع ہوا۔ جس کا پیش لفظ جناب ڈاکٹر مہاتیر بن محمد، سابق وزیر اعظم ملائیشیا نے تحریر کیا۔ اس کتاب کے مندرجات کو جب زیادہ وضاحت سے بیان کر دیا گیا ہے تو یہ کتاب نیشنل بک فائونڈیشن نے انگریزی میں

‘Islam in the Contemporary World: A New Narrative’

            کے عنوان سے شائع کی۔ 2008ء سے لے کر 2020ء تک اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ 2018ء میں اس کا ایک ایڈیشن ’’حرف محرمانہ: عہد حاضر میں فکری اجتہاد‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اب دوبارہ اس کا نیا ایڈیشن شائع ہو رہا ہے جس میںدیگر اہم تبدیلیوں کے علاوہ ایک باب (پانچواں) کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اب یہ کتاب نئے نام کے ساتھ چھپ رہی ہے، یہ نام کتاب کے مضمون کی روح کے زیادہ قریب ہے۔

            یہ کتاب عملاً دو حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ اول: پدرم سلطان بود، ماضی کے حالات کی نقش گری ہے اور حصہ دوئم: کسی اور زمانے کا خواب، میں حال اور مستقبل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ حصہ اول (باب ایک تا باب چھ) میں، میں ایک تاریخی تنقید کے عمل میں سے گزرا ہوں تا کہ ماضی کو واضح طور پر سمجھا جائے اور ہم مستقبل کا نئے سرے سے تصو رقائم کرنا شروع کر دیں۔ حصہ دوئم (باب سات تا باب چوبیس) میں اسلامی افکار اور مسلم معاشروں کی تشکیلِ نو پیش کر رہا ہوں۔

            ذیل میں ہر باب کے مواد کا ایک مختصر خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے جو میرے استدلال کی ساخت اور نئے اسلامی بیانیے کی تشکیل کی بنیاد کی وضاحت کرتا ہے۔

حصہ اول

پہلا باب:  کائنات کی زندگی حرکت میں سے نمودار ہوتی ہے؛ حالتِ جمود میں موت چھپی ہوئی ہوتی ہے تاہم فطرت میں تغیر اور استحکام بیک وقت موجود رہتے ہیں لہٰذا تغیر اور استحکام کے باہمی انحصار کا تسلسل زندگی میں ایک توازن قائم کرتا ہے اور اسلام کی تشکیل میں اصولِ تحرک کو ’اجتہاد‘ کہا جاتا ہے۔

دوسرا باب:  مسلمانوں نے ماضی میں تبدیلی اور جہاد کے سنہرے اصولوں کی روشنی میں ہر چیلنج کا جواب دیا ہے۔ اس طرح وہ ہر شعبۂ زندگی میں بنی نوعِ انسان کے ارتقاء میں خصوصی کردار ادا کرتے رہے۔

تیسرا باب:  اسلا م نے اپنی اعلیٰ و ارفع اقدار کے لیے روحانی بنیادیں اور فطری ترغیبات فراہم کی ہیں۔ اس نے فطرت کے مطالعے پر زور دیا ہے، نہ کہ اس کی پوجا پر، جیسے کہ یہ ہوتی رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں سائنسی اندازِ فکر نے جنم لیا، اس طرح علم کو بڑے پیمانے پر فروغ ملا۔ یہ علم پورے یورپ میں پھیلا اور اس سے یورپی نشاۃٔ ثانیہ کی شمع روشن ہو گئی۔

چوتھا باب:  قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے اپنے زمانے کے چیلنج کا بڑی کامیابی سے جواب دیا اور وہ مہذب دنیا پر چھا گئے۔ امتدادِ زمانہ کے ساتھ ساتھ وہ انحطاط کا شکار ہوتے چلے گئے۔ بالآخر نیند کی گہری وادیوں میں کھو گئے جبکہ اہل یورپ نے مسلمانوں کے علم کی بنیادوں پر سلطنتیں استوار کر لیں۔ یہ بنیادیں آج تک حکمرانی کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ ان کے سائنسی انقلاب نے ان کی کایا پلٹ دی ہے اور عہدِ روشن خیالی (Age of Enlightenment) نے ایک نئے معاشرتی نظام کو جنم دے دیا ہے تاہم ان پیش قدمیوں کے دوران مسلمان غفلت کی گہری نیند میں پڑے رہے۔

پانچواں باب:  عہد متوسط اور جدید دور میں جب مغرب میں پرانے علوم نئی شکل اختیار کر رہے تھے اور نئے علوم رونما ہو رہے تھے تو مسلم دنیا خواب غفلت کے مزے لے رہی تھی یا پھر پدرم سلطان بود (مرا باپ بادشاہ تھا) پکار رہی تھی۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مسیحی علما کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عقل و خرد سے جنم لینے والے علوم اور اس کے نتیجے میں بننے والے اداروں کی مخالفت کر رہی تھی اور انہیں اسلام کی تعلیمات کے خلاف ثابت کر رہی تھی۔

چھٹا باب:  مسلم تہذیب خطرات سے دوچار ہے۔ یہ خطرات نہ اچانک سامنے آئے ہیں اور نہ یہ غیر متوقع تھے۔ یہ آنے ہی تھے کیونکہ مادی دنیا فطری قوانین کے تابع ہے۔ مسلمانوں نے ان قوانین کی اطاعت اختیار نہیں کی چنانچہ وہ اپنی زیست کے سب سے پست درجے پر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا فخر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔

حصہ دوئم

ساتواں باب:  یہ دنیا فضول نہیں بنائی گئی بلکہ ایک مقصد کے تحت وجود میں لائی گئی ہے۔ یہاں آنے والے انسانوں کے لیے خدا کی طرف سے رہنمائی کی گئی ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت اپنے مقصدِ تخلیق کو فراموش کیے بیٹھی ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں۔ دوسرا گروہ کئی خداؤں کے احکامات کی اطاعت کرتا ہے۔ پھر ایک اور گروہ کا کہنا ہے کہ تمام انسانی مسرتیں گنا ہ ہیں۔ مسلمانوں کو ایک صحیح نظامِ فکر کی ضرورت ہے جسے اختیار کرکے انھیں ان مطالبات کو پورا کرنا ہے جو یہ نظامِ فکر ان پر عائد کرتا ہے۔

آٹھواں باب:  اسلام میں صرف دو ہی مستند ماخذ ہیں۔ قرآن پاک اور سنت۔ یہی شریعت کی بنیاد ہیں جبکہ فقہ میں حالات کے مطابق قرآن پاک اور سنت کی تشریحات شامل ہیں۔ شریعت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا لیکن فقہ میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ عصرِ حاضر کے مسلمان شریعت کی بہ نسبت فقہ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ مزید برآں فقہ کو بہت زیادہ اہمیت دینے سے قانون پرستانہ نقطۂ نظر (legalistic view) پیدا ہو گیا ہے جس سے اسلام کے اخلاقی، معاشرتی اور روحانی پہلو نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔

نواں باب:  اسلام کا مطلب ہے سلامتی اور اطاعت۔ اللہ تعالیٰ کی منشا ومرضی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو اطاعت کہا جاتا ہے۔ اسلام میں چند ایک بنیادی اجزائے ایمان ہیں اور چند ایک لازمی رسوم ہیں۔ مقاصدِ شریعت میں مذہب کا تحفظ و مدافعت، زندگی، قوائے ذہنی، عزت و ناموس، خاندان، مال و دولت کی حفاظت اور عدل گستری شامل ہیں۔ چند ایک بنیادی اور قانونی تعلیمات ہیں جن پر عمل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو صرف بنیادی تعلیمات پر توجہ مرکوز کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

دسواں باب:  عقلیت (rationality) انسان کو دیگر مخلوقات سے الگ کرتی ہے۔ مسلم روایت عقلیت کو وحی کے اندر شامل کرتی ہے اور عقل کو ایک بڑی حقیقت کا جزو سمجھتی ہے۔ تاہم بیشتر مسلمانوں کا عمومی طرزِ عمل غیر معقول اور غیر متوازن ہے جس کی وجہ سے انہوں نے نظامِ ترجیح کو درہم برہم کر دیا ہے۔ لہٰذا انہیں اس غیر معقول رویّے سے نجات پانے کی کوشش کرنا ہوگی۔

گیارہواں باب:  اسلام کسی مادی و اخلاقی اور دنیاوی و روحانی تقسیم کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلمانوں نے ’دین‘ کے اسلامی تصور کو ترک کر دیا ہے اور اس کی بجائے نفس کشی اور رواقیت کا تصور اپنا لیا ہے۔ مسلمانوں کو دنیاوی اور روحانی شعبوں کی تقسیم کا سلسلہ چھوڑ دینا چاہیے، ورنہ وہ ترقی نہیں کر سکیں گے۔

بارہواں باب:  اسلام نے نیم قبائلی یا موروثی سیاسی نظاموں کو تبدیل کرکے مشاورت پر مبنی نظام (شوریٰ) قائم کیا ہے۔ چاروں خلفائے راشدین کے بعد مسلم حکمرانوں نے پھر سے مطلق العنان خاندانی نظام قائم کر لیے تھے۔ اس تاریخی سیا ق وسباق نے مسخ شدہ مذہبی و سیاسی سوچ کو جنم دیا۔ بعض اہل دانش اس فطری جمہوری اصول سے اختلاف کرتے ہوئے ایک غیر حقیقی مثالیت کا تصور پھیلا رہے ہیں تا کہ ایک ہمہ مقتدر خلیفہ وجود میں لا سکیں جبکہ مسلمانوں کو ایک ایسے سیاسی نظام کی ضرورت ہے جو کہ مشاورتی ہو۔

تیرہواں باب:  ہمارے مدارس نے روایتی اسلامی تعلیمات ہم تک منتقل کرکے حیرت انگیز کردا ر ادا کیا ہے لیکن اب حالات و کیفیات تبدیل ہو چکی ہیں۔ مسلمانوں کو بھی لازماً تبدیل ہو جانا چاہیے تاکہ وہ وقت کے ساتھ ہم قدم ہوکر چل سکیں۔ ہمارے مذہبی تعلیم کے نظام کی اصلاح و تجدید کی ضرورت ہے۔ نصاب اور طریقِ تدریس فوری تبدیلیوں کے متقاضی ہیں تا کہ مسلمانوں کو مزید ذہنی افلاس سے بچایا جا سکے۔

چودہواں باب:  آج مسلم دنیا میں سائنس کا حال اندوہ ناک ہے۔ مسلم ممالک میں ہر دس لاکھ کی آبادی میں صرف 530 سائنسدان ہیں جب کہ جاپان میں ہر دس لاکھ افراد میں 5095 سائنس دان ہیں۔ 194یہودی سائنسدانوں کو نوبیل پرائز مل چکا ہے جبکہ یہ صرف دو مسلمانوں کو مل سکا ہے اور وہ دونوں امریکہ میں ہی آباد ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی اگر وہ دنیا میں با وقار حیثیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ـ

پندرہواں باب:  مسلمان بالعموم اخلاقی انحطاط کا شکار ہیں اگرچہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حضور نبی کریمﷺ کے پیروکار ہیں جو اعلیٰ و ارفع کردار کے حامل تھے۔ کسی انسان کی عظمت کو اس کی تعلیم، مال و متاع یا منصب کے پیمانے سے نہیں بلکہ اس کے بلند کردار اور طور طریقوں سے ناپا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو اعلیٰ اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے ایک باقاعدہ تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

سولہواں باب:  اسلام ہمیں بنی نوعِ انسان کے فطری وقار کا احترام کرنے کا درس دیتا ہے لیکن مسلمانوں نے انسانی حقوق کی جدید تحریک کے بارے میں منفی رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ وہ ان طور طریقوں سے اختلافی رویہ اختیار کر سکتے ہیں جو ان کے نظامِ عقائد سے متصادم ہوں لیکن ایسے تمام اطوار کو مثبت انداز میں قبول کر لینا چاہیے جو ان عقائد سے مطابقت رکھتے ہیں۔

سترہواں باب:  عورتیں انسانی آبادی کا نصف ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کے بارے میں مسلمانوں کا رویّہ زیادہ تر غیر اسلامی اور قدامت پسندانہ بلکہ ازمنہ وسطیٰ جیسا ہے۔ جب کہ مسلم تہذیب کے سنہری دور میں عورتیں امت مسلمہ کی معاشرتی ثقافتی اور تہذیبی زندگی میں موثر طور پر شریک رہی ہیں۔ اس کے برعکس جدید دور کے مسلمانوں نے عورتوں کو مسلم معاشرے سے الگ تھلگ کر رکھا ہے۔ مسلمانوں کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنا ہوگا کیونکہ یہ بالکل نا قابل دفاع ہے۔

اٹھارہواں باب:  قدیم اسلامی ادب میں مسلم ریاست میں رہنے والے غیر مسلموں کو ذمّی کہا جاتا ہے یا ایسے لوگ کہا جاتا ہے جن کی حفاظت ایک معاہدے کے تحت کی جاتی ہو۔ قرآن پاک کسی عداوت کے بغیر ہمہ گیر مذہبی یکجہتی کو مقدس قرار دیتا ہے، اس طرح شدت پسندی کا خاتمہ ہو جاتاہے۔ کیا آج کل کے مسلمان اپنے ملکوں میں اقلیتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ ’ہرگز نہیں‘ یہ صورت حال تبدیل ہو نی چاہیے۔

انیسواں باب:  بیشتر مسلمان کسی نہ کسی شکل میں غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مذہبی طبقہ ماضی بعید کے ساتھ چپکا ہوا ہے اور سوچتا ہے کہ ہر وہ چیز جو مغرب  سے آتی ہے وہ ’کفر‘ ہے۔ مسلم آبادی کا تعلیم یافتہ طبقہ مغربی تہذیب کاایک اندھا غلام ہے۔ مسلمانوں کو یہ سوچ ترک کر کے ہر اس چیز کو قبول کر لینا چاہیے جوا چھی ہے اور جو چیز بُری ہے اسے ترک کر دینا چاہیے۔ انہیںذہانت میں بھی دنیا کی قیادت کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔

بیسواں باب:  اسلام ’شریعہ‘ اور ’تزکیۂ نفس‘ یا تصوّف پر زور دیتا ہے۔ تصوف نے بیرونی اثرات کے تحت ایسے اصول وضع کر لیے ہیں جو اسلامی روحانیت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اس کی وجہ سے مسلمان ترکِ دنیا (asceticism) اور غیر معقولیت (irrationality) کی طرف مائل ہو گئے۔ حقیقی تصوّف اس جدید دنیا میں مفید کردار ادا کرسکتا ہے، جہاں لوگ دولت، جائیدادوں اور سامانِ تعیش کی ہوس میں مبتلا ہو رہے ہیں، تصوّف انہیں راہِ راست پر لا سکتا ہے۔

اکیسواں باب:  مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد غیر مسلم ممالک میں بستی ہے۔ جدید شہریت ان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ان ملکوں کے قوانین کی پاسداری کریں اور وہاں کے شہریوں کے ساتھ یکجہتی اور یگانگت کا مظاہرہ کریں۔ مغربی ریاستوں کے مسلم رہائشیوں کو سیاسی لبرل ازم کا مقامی برانڈ قبول کرنا پڑتا ہے۔ ’دعوت‘ اور ’مصلحت‘ کے اصول تقاضا کرتے ہیں کہ وسیع تر معاشرے کے ساتھ خوش دلانہ اور مخلصانہ روابط بڑھائے جائیں۔ اگر مسلمان ایک غیر مسلم ریاست میں ایسا کرنے میں اذیت محسوس کریں تو وہ وہاں سے ہجرت کرکے کسی اسلامی ریاست میں جا سکتے ہیں۔

بائیسواں باب:  بعض مسلمان پوری مسلم اُمّہ کے لیے ایک ’خلافت‘ کے قیام پر زور دیتے ہیں تاہم اسلام ہمہ گیر ’خلافت‘ کے قیام کا حکم نہیں دیتا جو کہ ایک تاریخی تعامل کا مظہر ہوتی ہے۔ مسلمان زمین پر اللہ عزوجل کے خلیفہ ہیں۔ تاریخی طور پر خلافتِ راشدہ کے بعد کوئی مستحکم خلافت قائم نہیں ہوئی۔ ایک ہمہ گیر مسلم خلافت کا قیام اب نا قابلِ عمل (unrealizable) رومانوی تصور ہے، بالخصوص جدید قومی ریاستوں کے سیاق و سباق میں یہ بالکل ہی ایک خواب ہے۔ مسلم اُمّہ کے اتحاد کی خواہش مسلم ریاستوں کی دولتِ مشترکہ کے قیام میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔

تئیسواں باب:  جہاد کے نام پر مسلمانوں کی بہت خون ریزی ہو چکی ہے۔ جہاد، درحقیقت شر کے خلاف تمام سطحوں پر ایک طویل پُر امن جدوجہد کا نام ہے۔ جہاد کا مطلب یہ بھی ہے کہ بہت ہی خاص حالات میں ایذا رسانی سے بچنے کے لیے ایک مسلح جدوجہد شروع کر دی جائے۔ جہاد کا اعلان صرف ایک مسلم ریاست اپنے دفاع کی خاطر کرسکتی ہے؛ چند گروہوں یا افراد کو،حکومت سے بے نیاز ہو کر، اعلانِ جہاد کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ جب گروہ یا افراد اپنے طور پر، آزادانہ یہ عمل شروع کر دیں گے تو یہ انارکی اور فتنہ انگیزی ہو گی جو کہ ’انسان کے ہاتھ سے انسان کے قتل‘ سے بھی بدتر ہوگا۔

چوبیسواں باب:  اسلام کے بعض اصول مستقل نوعیت کے ہیں۔ اسلام اجتہاد کا تصور اس لیے دیتا ہے کہ انسانی تہذیب کی پیش قدمی کے لیے پُر امن جدوجہد کا ساتھ دیا جائے۔ شریعت بنیادی اصول دیتی ہے جن کی ترجمانی لازماً بذریعہ اجتہاد کی جانی چاہیے۔ پوری امتِ مسلمہ ایک ذہنی انحطاط کے دور سے گزر رہی ہے۔ اس کا رُخ پیچھے کی طرف موڑنے کی اشد ضرورت ہے۔ آج مسلمانوں کو ایک کلّی اجتہاد کی ضرورت ہے جواسلام کی بنیادی تعلیمات کی بنیاد پر موجودہ مذہبی افکار کی جامع تشکیل نو کی طرف لے جائے لیکن گزشتہ پانچ سو سالوں کی پیش قدمیوں کو بھی ذہن نشین رکھنا ہوگا۔

             کتاب کے مختصر سے تیسرے حصے میں حضرت علامہ اقبالؒ کی ایک ولولہ انگیز نظم کے ساتھ ساتھ مصنف کی طرف سے ایک گزارش کی گئی ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ میں مسلم عوام اور مذہب اسلام پر پورا یقین رکھتا ہوں ۔ میرا یہ یقین بھی ہے کہ علم اور صحیح ایمان رکھتے ہوئے ہم وہی لوگ بن سکتے ہیں جو کبھی ہوا کرتے تھے۔ ایسے لوگ جیسے اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے چاہتا رہا ہے کہ ہم ویسے ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس نصب العین کے لیے یہ کتاب ہمارے سفر کا ایک حصہ ہوگی۔ درحقیقت گم شدہ روایت کی بازیافت کے لیے ایک کوشش ہے:

میں کہ میری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سُراغ

میری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو

(بال جبریل: ذوق شوق)

             اس کتاب میں کہیں کہیں درد دل کی وجہ سے زبان ذرا تلخ ہو گئی ہے جس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔ شاید اس طرح کی صورت حال کے لیے کہا جاتا ہے کہ

نوا را تلخ تر زن جو ذوق نغمہ کم یابی

(جب نغمہ سننے کا ذوق کم ہو تو اپنی نوا کو زیادہ تلخ کر دو)

            اسی پس منظر میں کچھ سابقہ عظیم تاریخی شخصیتوں کی تعلیمات پر بھی تبصرے کیے گئے ہیں جو صرف اور صرف ضروری سبق سیکھنے کی نیت سے کیے گئے ہیں جبکہ ہمار اخیال ہے کہ وہ لوگ روشنی کے عظیم مینار تھے مگر انسان تھے۔

            میں ان متعدد حضرات کا شکر گزار ہوں، جنھوں نے اس کام میں میرا ہاتھ بٹایا۔ میں جناب یحییٰ خان کا پر شکرگزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کے انگریزی ایڈیشن کو اردو میںبہت مہارت اور عرق ریزی سے منتقل کیا۔ میں شکریہ ادا کرتا ہوں سیف اللہ بخاری کا جس نے تحقیق میں میری مدد کی۔ جناب احمد جاوید، وقار حمدی اور خورشید ندیم کا مشکور ہوں جن سے ہمیشہ ان موضوعات پر عالمانہ بحثیں رہتی ہیں۔ میں شکر گزار ہوں جناب ڈاکٹر حسن الامین، اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ اسلام آباد، کا جنھوں نے میری اس کاوش کو خوبصورت کتابی شکل میں قارئین تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔

             میں خاص طور پر اپنی والدہ محترمہ اور اپنے بچوں (حسن اور فاطمہ) کا مشکور ہوں جن کی دعاؤں اور قربانی کے بغیر یہ تحقیقی کام ممکن نہ تھا۔

            دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری اس حقیر کوشش کو قبول فرمائے جو میں نے بہتر پاکستان اور بہتر دنیا وجود میں لانے اور مسلمانوں کی اصلاح اور احیا کی خاطر کی ہے اور میری کوتاہیوں کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرمائے۔

سپردم بہ تو مایہ خویش راہ

تو دانی حساب کم و بیش را

(میں نے اپنا سب کچھ آپ کے سپرد کر دیا ہے)

(آپ ہی اس میں کم اور زیادتی کا خیال فرمائیں)

ظفراللہ خان

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “اجتہاد”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X