شذرات حکمت

950.00

Author: Dr. Muhammad Al-Ghazzali from Arabic into Persian, English and Urdu

Edited and Compiled by Waqas Ahmad Khan.

ISBN: 978-979-7576-96-8

Publication Year: 2021

Number of Pages: 132

 

Description

پیش نظر کتاب قرون وسطی کی لوک دانش پر مبنی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کتاب عام انسانی تجربات، روز مرہ واقعات، اعلی اخلاقی نتائج اور زرعی سماج کے ذہین و نمایاں لوگوں کی گفتگو سے ماخوذ حکمت و نصیحت بھرے اقوال کا مجموعہ ہے۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ یہ کتاب سب سے پہلے فارسی زبان میں “سخنان محمد ﷺ” کے نام سے شائع ہوئی تھی، جس میں عربی روایات کا فارسی ترجمہ بھی شامل تھا۔ بعد میں آئی آر ڈی کے سابق ڈائریکٹر مرحوم ڈاکٹر ممتاز نے اسے اردو اور انگریزی ترجمے کے ساتھ شائع کرنے کا ارادہ کیا۔ انہی کی خواہش پر ڈاکٹر محمد الغزالی نے اس کااردو اور انگریزی ترجمہ کیا، مگر حالات نے انہیں یہ مہلت نہ دی کہ وہ اسے اپنی زندگی میں شائع کروا سکیں۔ برسوں بعد کتاب کا مسودہ نامکمل حالت میں آئی آر ڈی کے موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترم ڈاکٹر حسن الامین کی نظر سے گذرا، تو انہوں نے اسے شائع کرنے کی ٹھانی۔ ایک بالکل ہی غیر متعلقہ نشست میں اچانک اس کتاب کا ذکر چلا تو انہیں خیال ہوا کہ راقم الحروف عربی، فارسی، انگریزی اور اردو چاروں زبانوں سے شناسائی رکھتا ہے، تو کتاب پر نظر ثانی کی ذمہ داری سونپ دی۔ راقم الحروف نے مطالعہ کے بعد چند تجاویز ڈاکٹر صاحب کے سامنے پیش کیں تو انہوں نے کمال عنایت سے منظور کر لیں، چنانچہ کتاب کو از سر نو ترتیب دینے کا عمل شروع ہوا۔

            سخنان محمد ﷺ کا عنوان اور کتاب میں موجود بیسیوں احادیث کی موجودگی سے تاثر بن رہا تھا کہ یہ احادیث رسول ﷺ کا مجموعہ ہے، جبکہ راقم الحروف کی تحقیق کے مطابق اس میں مستند احادیث کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ مزید برآں کسی بھی روایت کے لیے کسی قسم کا حوالہ بھی نہیں دیا گیا تھا۔ چنانچہ طے یہ ہوا کہ تمام روایات کا ناقدانہ جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ احادیث کی تخریج بھی کر دی جائے۔ یوں چار مختلف زبانوں کی نظر ثانی اور احادیث رسول ﷺ کی تحقیق و تخریج کرنے کا فیصلہ ہوا مگر خدشہ تھا کہ اس عمل سے کتاب کی روح متاثر ہو کر کچھ کی کچھ نہ ہو جائے۔ اس لیے راقم الحروف نے  درج ذیل خاکہ تشکیل دے کر کام شروع کر دیا:

کتاب میں نقل کردہ تمام اقوال و احادیث کی تحقیق و تخریج کی جائے۔

تحقیق میں معروف اسلوب درایت اختیار کیا گیا ہے، یعنی وہ تمام اقوال جن کی نسبت رسالت مآب ﷺ سے ثابت نہ ہو اور ان کا مفہوم مسلمات دینیہ سے متصادم ہو، انہیں حذف کر دیا جائے۔

تخریج کے لیے اصول یہ بنایا گیا کہ مستند احادیث کے ساتھ کتب حدیث اور جدید موسوعات کے مطابق حدیث نمبر لکھ لیا جائے۔

علاوہ ازیں تمام اقوال و ضعیف روایات کو بغیر نسبت و حوالہ نقل کر دیا جائے۔

            مذکورہ خاکے میں حدیث کے پیچیدہ اصولوں اور درایت کے تفصیلی قواعد کو مدنظر رکھنے کی بجائے کوشش یہ کی گئی ہے کہ نہ تو کتاب میں زیادہ کانٹ چھانٹ ہو اور نہ ہی غیر حدیث کو حدیث کے طور پر ذکر کیا جائے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بے شمار اقوال تلاش بسیار کے باوجود حدیث کی ان کتابوں میں بھی نہیں مل سکے، جن میں صحت و ضعف کی تفریق کیے بنا ہمہ اقسام مرویات جمع کر دی گئی ہیں۔ کہیں الفاظ میں کمی بیشی ہے اور کہیں ایک سے زائد مرویات کے مختلف ٹکڑے جمع کر دیے گئے ہیں۔درجنوں اقوال وہ ہیں، جو سیدنا علی  رضی اللہ عنہ سے منسوب ہیں۔کچھ اقوال کسی بھی معروف کتاب میں سرے سے نہیں ملے، چنانچہ ایک صورت تو یہ تھی کہ تحقیق و تخریج کے بعد ان تمام اقوال کو نکال دیا جائے، جن کی نسبت رسالت مآب ﷺ سے ثابت نہ ہو، اور کتاب کو جیسا کہ سخنان محمد ﷺ کے سرورق پر “اوتیت بجوامع الکلم” لکھ کر مجموعہ احادیث باور کروایا گیا تھا، اسی حیثیت سےشائع کر دیا جائے۔ راقم الحروف نے مگر اس کے برخلاف دوسری صورت اختیار کی  اور وہ یہ کہ بجائے کتاب کو مجموعہ احادیث باور کروانے کے، اسے عہد وسطی کی لوک دانش سے چنیدہ بامعنی و سبق آموز  اقوال یعنی “شذرات حکمت” کا مجموعہ قرار دیا جائے۔ البتہ چونکہ اس مجموعے میں درجنوں صحیح  احادیث بھی شامل ہیں، اس لیے تمام اقوال کی تخریج و تحقیق کے بعد صحاح ستہ یا دیگر کتب احادیث میں سے کسی ایک کتاب میں مذکور مرفوع اور مستندروایات کا حوالہ نقل کر دیا گیا ہے، جبکہ باقی ماندہ تمام اقوال بنا کسی “اصولی حکم” کتاب میں شامل رہنے دیے گئے ہیں۔

            تحقیق و تخریج کے عمل میں راقم الحروف نے درایتی نقد کا زیادہ خیال نہیں رکھا، البتہ ان اقوال کو ضرور حذف کیا ہے، جن کا مفہوم عام قاری کے لیے سیاق و سباق اور تشریحی نوٹ کے بغیر سمجھنا مشکل تھا، یا   ان کا مفہوم معروف  دینی تعلیمات سے متصادم تھا۔ البتہ کچھ اقوال  ایسے ہیں جو کسی نہ کسی فرمان رسالت مآب ﷺ سے مماثلت رکھتے ہیں یاس کےہم معنی و ہم قافیہ ہیں۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “شذرات حکمت”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X