Iqbal International Institute for Research and Dialogue (IRD) of  International Islamic University, Islamabad (IIUI)  hosted a national seminar on “Iqbal and the Modern Scenario” at Faisal Masjid Campus. The seminar was also collaborated by Departments of Urdu, History, and Pak Studies.

Participants of the seminar opined that revival of the Muslim’s glories is possible by following Iqbal’s philosophy of independent reasoning and utilization of youth for unity in the ranks of the Muslim World. The speakers shared their thoughts on Iqbal’s work, message, and application of his ideas in society. Participants expressed that country can acquire socio-economic targets by following the guiding principles of the poet of the East.

Allama Muhammad Iqbal, through his poetry, motivated the Muslims for and revival of the Muslim legacy. His message and thoughts are a source of solution to the contemporary challenges, said Prof. Dr. Masoom Yasinzai, Rector, IIUI. He said that Iqbal’s pain for Muslims must be felt by all of the Muslim societies.

Prof. Jaleel Aali was the Chief Guest of the Seminar, while it was also attended by Barrister Zafarullah Khan, Dr. Habib Ur Rehman Asim, Dr. Ahmed Shuja Syed, Vice President (R&E), IIUI, Executive Director, IRD, Dr. Husnul Amin, Dr. Najeba Arif, Dean Faculty of Languages and Literature, IIUI, senior faculty members and a large number of male and female students of the university.

Prof. Jaleel Aali pointed out that intellectuals of the east are over-inspired from western literature and research. He opined that Iqbal advocates that Islam is a social movement. Barrister Zafar Ullah Khan paid rich tributes to Allama Iqbal and urged the youth to follow his message.

Dr. Habib ur Rehman Asim, a famous scholar, and veteran teacher highlighted various aspects of Iqbal’s life and his message for Muslims. Prof. Dr. Ahmed Shuja Syed also shared his thoughts on the occasion and discussed the relevance of his poetry and the contemporary scope of Muslim youth. On the occasion, Dr. Husnul Amin highlighted the objectives of the program and the vision of IRD. He thanked all the intellectuals and researchers for attending the program and sharing valuable thoughts. Souvenirs were presented to the Chief guests and speakers of the seminars.

 

 

اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے زیر اہتمام  علامہ اقبال آڈیٹوریم میں ایک قومی سیمینار بعنوان “اقبال اور عصری منظر نامہ”  منعقد ہوا۔

سیمینار میں اسلام آباد اور روالپنڈی سے تعلق رکھنے والے ممتاز دانشوروں، اقبال شناسوں اور سکالرز  کے علاوہ ڈاکٹر حسن الامین ، ڈاکٹر حبیب الرحمن عاصم ، ڈاکٹر محمد آصف ، بیرسٹر ظفر اللہ خان  اور ڈاکٹر نجیبہ عارف نے خصوصی شرکت کی جبکہ پروفیسر جلیل عالی  اور ڈاکٹر معصوم یاسین زئی  بطور مہمان خصوصی  شریک ہوئے۔

ابتدائی گفتگو میں اقبال انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ  کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر  ڈاکٹر حسن الامین نے کہا کہ علامہ اقبال وہ شخصیت ہیں جو مسلم امہ کے مابین پل کا کردار ادا کرتے ہوئے ہم سب کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ علامہ اقبال جس دور میں موجود تھے، اس دور کا منظر نامہ آج کے منظرنامے سے خاصا مختلف ہے مگر اقبال نے  آزاد مسلم ریاستوں کے قیام  کے لیے اپنے دور میں جو اصول و ضوابط اپنی شاعری  اور نثر کے ذریعے پیش کیے ، ہم آج بھی ان سے نابلد ہیں۔  مسلمانوں کو آج بھی انہی سوالات کا سامنا ہے ۔ ثقافت،جمہوریت، آزادی، اجتہاد اور پارلیمان کا کردار سمیت بہت سارے سوالات آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں جن کے جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں اقبال اور فکر اقبال سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر حسن الامین نے  مزید کہا کہ اسلامی تاریخ کے دور جدید میں اقبال ان بلند پایہ اہل بصیرت میں شامل ہیں جو مذہب و سیاست میں اجتہاد کی حمایت کرتے ہیں ۔اقبال کے خیال میں اسلام کا تصورِ حیات جامد نہیں بلکہ متحرک ہے ۔ مسلمانوں کے زوال و انحطاط کا اہم سبب ہی یہ ہے کہ مسلمانوں کی قوت فکر بصیرت و اجتہاد سے محروم ہو گئی ۔ تاہم اجتہاد کا دروازہ کبھی بند نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی بند کر سکتا ہے ۔ اقبال کے خیال میں اجتہاد حسن تغیر اور حرکت ارتقا کا وسیلہ ہے۔

 قومی سیمینار سے معروف قانون دان بیرسٹرظفر اللہ خان، نائب صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد ڈاکٹر احمد شجاع سید ، پروفیسر جلیل عالی، ڈاکٹر حبیب الرحمٰن عاصم اور ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد ڈاکٹر معصوم یاسین زئی  نے خطاب کیا۔

مقررین کا کہنا تھا  کہ  عالم اسلام میں جن مفکرین کے نام سرِ فہرست آتے ہیں ان میں علامہ محمد اقبال کو مقامِ نام آوری اور مسندِ امتیاز و افتخار حاصل ہے ۔ لطافتِ خیال اور وسعت فکر میں ان کو اپنے عہد کی عظیم شخصیتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے جس مہم کا آغاز کیا اور جس تصور کی عملی تشکیل کی اس میں شاعرانہ حسن تخیل، فلسفیانہ ژرف نگاہی، مجاہدانہ روح اور قوت ارادی ان کے شریک کار رہی۔ ان کی نظم و نثر کا ہر پہلو ان کے جلوۂ ذہانت اور بصیرت حکیمانہ کا آئینہ دار ہے۔ حضرت اقبال کا فلسفہ اور شاعری بہت سے ارباب دانش کا موضوع فکر بنا لیکن ان کے منظرِفکر و بصیرت کے مختلف گوشوں میں سے جن میں سیاسیات، مذہبیات، اخلاقیات اور الٰہیات شامل ہیں۔ اقبال کے سیاسی نظریات کا چہرہ تاحال حجاب آفریں اور متضاد تصورات کے بے ربط امتزاج کے تاریک غبار میں پنہاں ہے جو ان کے نظام فکر سے وابستہ کر دیئے گئے ہیں۔ بلا شبہ علامہ اقبال کے سیاسی تصورات کے مفہوم و افادیت کا ابھی تک واقعیت پسندی کے ساتھ اس حد تک جائزہ نہیں لیا گیا جہاں تک اس کی اہمیت کا اقتضا ہے ۔

 علامہ اقبال نے فکر اسلامی کو اپنے عصری تقاضوں کی روشنی میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ۔اقبال عصری تقاضوں کو اسلام کے ماضی سے رشتہ توڑ کر نہیں بلکہ اس رشتے کو اور بھی مضبوط کر کے پورا کرنا چاہتے تھے، اس لیے فکر اقبال کو سمجھنے کے لیے خود فکر اسلامی کے اس تاریخی ارتقا کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے جو وحی و رسالت کی ساتویں صدی سے چل کر اقبال کی بیسویں صدی تک پہنچتا ہے ۔ یہ بہت طویل اور پیچیدہ سفر ہے گذشتہ پندرہ سو سالوں میں اسلامی فکر مختلف اور متنوع ادوار سے گزری ہے۔

اقبال اور عصری منظر نامہ  کے حوالے سے منعقدہ اس سیمینار میں مہمان مقررین نے جامع اور تنقیدی خیالات کا بھرپور اظہار کیا ۔ بلاشبہ آج پاکستان ایسے ہی متغیر دور سے گزر رہا ہے جو ترکی میں ۱۹۲۴ میں اختتام پذیر ہوا ۔ پاکستان کے روایت پسند حلقوں نے اپنے پیش رو ترک علماء کی طرح اسلامی تعلیمات کو روایتی فقہ کے نفاد کے مترادف قرار دے رکھا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ جب تک معاشرہ صنعتی طور پر ترقی کر کے جاگیردارانہ اور استعماری تسلط سے نجات حاصل نہیں کر لیتا اور جب تک مذہبی علوم کی تدریس جدید علوم کی روشنی میں نئے سرے سے نہیں دی جاتی یہ بحث جاری رہے گی ۔ کسی بھی زندہ معاشرے میں جوابات کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی جتنی ان سوالات کی جو عالمانہ جرات و بصیرت سے جنم لیں ۔ اس سیمینار میں سنجیدہ اور شعوری بیداری کے حامل سوالات اٹھائے گئے ۔ فکر اقبال کو فروغ دینے میں  اقبال انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد نے فعال کردار ادا کیا ہے جس کو تمام مقررین ، حاضرین اور دانشوروں نے سراہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X